کوپل:25/ دسمبر(ایس اؤنیوز) مسلمانوں کے خلاف زہر آ لود اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے بعد وزارت کی کرسی حاصل کرنے والے اننت کمار ہیگڈے نے پھر ایک بار متنازعہ بیان دے کر میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس بار انہوں نے ایک پروگرام میں سیکولرزم کے خلاف اپنی بکواس کی ہے اور کہا ہے کہ ’’جولوگ اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں انہیں اپنے ماں باپ کے خون کا پتہ نہیں ہے‘‘۔
اتوار کو ضلع کے ککنور مہامایا مندر کے صحن میں منعقدہ براہمن یوا پریشد کے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اننت کمار ہیگڈے نے کہاکہجن لوگوں کو اپنے ماں باپ کے خون کا پتہ نہیں ہوتا ہے،وہی لوگ اپنے آپ کو سیکیولر کہتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مسلم، عیسائی ، لنگایت، برہمن اور ہندو کہتا ہے تو خوشی ہوتی ہے کیونکہ ان لوگوں کو اپنے ماں باپ کی پہچان ہوتی ہے۔ انہوں نے ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے کہ یہ جو دانشور ہیں یہ اپنے آپ کو سیکیولرکہتے ہیں۔انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ ایسے لوگوں کو کس نام سے پکاراجاناچاہیے۔
دستور کی تبدیلی :ا پنی بات جاری رکھتے ہوئے اننت کمار نے کہا کہ وقت کے تقاضے کے مطابق ملک کا دستور بدلنا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار دستور میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ہیگڈے نے کہا کہ ہم لوگ دستور کو ہی بدلنے والے ہیں اور اسی کے لئے بر سراقتدار آئے ہیں۔ مزید کہا کہ ایک زمانے میں ملک میں منوسمرتی(برہمنی مذہب کے بنیادی قوانین، جس میں ہندو سماج کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے) کا رواج تھا۔ مگر اس وقت امبیڈکرکی وضع کردہ سمرتی کا راج ہے۔ اسے بھی موجودہ زمانے کے مطابق بدل دیا جانا چاہیے۔اس دور میں ذات کی تفریق بہت بڑھ گئی ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے ۔ انسان پیدائش سے ایک جانور ہی ہے ، مگر اس کے بعد اس کے اعمال سے وہ اپنے آپ کو انسان میں بدل دیتا ہے۔
پروگرام میں رکن پارلیمان سنگنا کرڈی ، سابق رکن اسمبلی پرنا مونولی، لیڈران ہالپا آچار، ڈاکٹر کے جی کلکرنی سما شاستری سمیت برہمن سماج کے کئی لیڈران موجود تھے۔